اردو میں دیسی+بدیسی الفاظ اور کسرۂ اضافت کا مسئلہ

دیسی+بدیسی الفاظ کو کسرۂ اضافت کے ذریعے مرکّب بنانے کے حوالے سے شمس الرحمان فاروقی چند قدیم مثالیں دے کر فرماتے ہیں کہ فارسی/عربی الفاظ کو دیسی الفاظ کے ساتھ مرکبّ کرنے کے خلاف کوئی عقلی دلیل نہیں،اور نہ عملی دلیل ہے۔آگے چل کر وہ ایسا نہ کرنے کے عمل کو لسانی تعصّب سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ شاید یہ بھی ہے کہ جن قواعد نویسوں نے اس کے استعمال کو معیوب سمجھا ہے یا اس کے استعمال سے منع کیا ہے، کوئی منطقی دلیل نہیں دے پائے؟۔
ہم اس تحریر میں اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ اردو میں دیسی+بدیسی الفاظ کو کسرۂ اضافت کے ساتھ مرکب شکل نہ دینے کا منطقی یا لسانیاتی جواز کیا ہے۔
اگر ہم غور کریں تو زبان کے تمام اصول و قواعد اس کی جمالیاتی تشکیل سے وابستہ ہیں۔ یا یوں کہیے کہ جسے ہم زبان کا جمالیاتی نظام کہتے ہیں در حقیقت اس کی عمیق ساخت کا لسانیاتی تعامل ہے۔
ہر زبان کا اپنا ایک جمالیاتی نظام ہوتا ہے۔ صرف وہی تراکیب اردو میں داخل ہوسکتی ہیں جو اس کے جمالیاتی نظام سے متصادم نہ ہوں۔
فارسی میں بہت زیادہ تبدیلی آئی ہے ۔ عربی اور فارسی زبانیں بالکل الگ الگ خاندانوں سے تعلق رکھتی ہیں ، لیکن اس کے باوجود بھی عربی فارسی تراکیب فارسی میں مستعمل ہیں۔ یہ استعمال ہمیں جدید شعرا کے ساتھ ساتھ کلاسیکی شعرا کے ہاں بھی نظر آتا ہے جیسے حافظ، سعدی وغیرہ وغیرہ۔ اسی طرح ہمیں فارسی عربی، عربی فارسی، فارسی فارسی تراکیب کا استعمال اردو کے کلاسیکی شعرا کے ہاں بھی نظر آتا ہے۔ لیکن ہندی فارسی یا ھندی عربی کی تراکیب کا استعمال اکّا دکّا مثالوں کو چھوڑ کر ہمیں نظر نہیں آتا۔ آخر ایسا کیوں؟
اس کی بنیادی وجہ یہی ہے اردو کا جمالیاتی نظام ایسی تراکیب کو قبول نہیں کرتا۔ آپ ایسی کوئی بھی نئی عربی عربی، فارسی فارسی، فارسی عربی، عربی فارسی ترکیب وضع کریں جو آج تک کسی بھی شاعر نے استعمال نہیں کی ہے، اردو زبان اسے اپنانے میں بالکل بھی تأمل نہیں کرے گی، لیکن جہاں آپ ہندی فارسی یا ہندی ہندی تراکیب اضافتی طرز پر وضع کرنے کی کوشش کرتے ہیں اردو کا ”دفاعی نظام“ حرکت میں آجاتا ہے ۔
اب سوال یہ ہے کہ ہمیں کس طرح پتہ چلتا ہے کہ اردو کا جمالیاتی نظام کونسی تراکیب کو کس بنیاد پر قبول کرتا ہے اور کونسی تراکیب کو کس بنیاد پر قبول نہیں کرتا ؟
اردو نے فارسی مفردات کی طرح مرکبات کو بھی اپنے دامن میں سیمیٹا ہے۔ مفردات چونکہ ایک ”آزاد“ شکل رکھتی ہیں اس لیئے ھندی، فارسی، ترکی ،عربی مفردات کا استعمال اردو اپنے دائرے میں رہ کر آزادانہ طور پر کرتا ہے۔
مرکبات چونکہ مفردات کی طرح آزاد شکل نہیں رکھتیں بلکہ ایک صرفی زنجیر کی پابند ہیں اس لیئے اردو نے فارسی زبان سے فارسی مرکبات کو اسی صرفی زنجیر کے ساتھ اپنے دامن میں سمیٹا ہے جس طرح فارسی میں ان کی صورت ہے۔
سنسکرت/ہندی مرکبات کو اسی صرفی صورت میں اپنے دامن میں سمیٹا ہے جس صورت میں وہ سنسکرت/ہندی میں پائی جاتی ہیں۔
اب جب آپ فارسی اور اردو، دونوں زبانوں کی مفردات کو مرکب صورت دینے کا ارادہ کرتے ہیں اردو کا دامن پھیلانے کے لیے تو اردو صرف اس صورت کو لیتی ہے جو ان دونوں زبانوں میں مشترک صورت ہے ۔ مثلا فارسی میں غیر زیر اضافتی ترکیب بھی پائی جاتی ہے ، جیسے ”ماہ رخ“ ۔ اسی طرح ہندی میں بھی غیر زیر اضافتی ترکیب پائی جاتی ہے، جیسے ”چاند چہرہ” ۔
ایسی تراکیب وضع کرنے کے لیئے اردو زبان ہندی اور فارسی مفردات کو ایک ساتھ استعمال کرتی ہے ۔ جیسے ”گلاب آنکھیں“
ایسی صورت میں دونوں زبانوں سے مفردات لے کر نئی نئی تراکیب وضع کرنے سے اردو کا جمالیاتی نظام اس لیئے متأثر نہیں ہوتا کیونکہ یہ صورت دونوں زبانوں میں مشترک ہے۔ سو ایسی صورت میں آپ کوئی بھی ہندی اور فارسی مفرد لفظ لے کر نئی ترکیب وضع کرسکتے ہیں حالانکہ ایک لفظ فارسی کا آپ لے رہے ہیں اور ایک ہندی کا !!
دوسری صورت زیرِ اضافتی ترکیب کی ہے جو صرف فارسی میں ہے ، ہندی میں نہیں ہے ۔ اس لیئے ایسی صورت میں اردو کا جمالیاتی نظام شدید متأثر ہوتا ہے۔
کچھ الفاظ میں ہمیں یہ اس لیئے برا محسوس نہیں ہوتا کیونکہ ہندی لفظ بھی فارسی کی لفظی ساخت کے مشابہ ہوتا ہے جیسے کہ ”وہمِ سمندر” لیکن بہت سی تراکیب بہت سنگین اور بری محسوس ہوتی ہیں جیسے کہ ” لڑکیِ نیک اختر“ ”ہتھوڑائے کلاں، سرِ پہاڑ“ یہ تراکیب اس لیئے بری محسوس ہوتی ہیں کیونکہ ان میں ایسے حروف ہیں جو فارسی الفاظ میں نہیں !
یا ایک اور صورت جیسے کہ ” لکڑی و آرا“ ” دوڑنائے گھوڑا“ وغیرہ وغیرہ
آپ اضافت کو ایسی تراکیبی صورت میں مانیں گے تو کیسی عجیب عجیب جنیاتی تراکیب سامنے آئیں گی !! جو پھر آپ کو قبول کرنی پڑیں گی در حالے کہ اردو زبان اپنی ساخت کے اعتبار سے ان کا متحمّل نہیں ہوسکتی۔
اگر آپ کہتے ہیں کہ ایسی کچھ تراکیب قابلِ قبول ہیں اور کچھ نہیں تو آپ ایسا کس بنیاد پر کہیں گے ؟ کیسے طے کریں گے ؟ جو کانوں کو بھلی لگیں گی ؟ ایسا عین ممکن ہو کہ ایسی کوئی ترکیب ایک کان کو بھلی محسوس ہوگی اور دوسری کو بری پھر یہ معیار آپ کیسے طے کرپائیں گے؟ ویسے بھی جب کوئی زبان کسی تبدیلی کو قبول کرتی ہے تو وہ اس میں موجود لسانیاتی لچک کی بنیاد پر کرتی ہے۔ اور یہ لچک وضع ترکیب کی پہلی صورت کے لیے ہموار ہے اسی لیے قابلِ استعمال ہے اور ”باقاعدہ” بھی۔
چنانچہ ایسی کوئی بھی کوشش جدّت کے زمرے میں نہیں، بگاڑ کے زمرے میں آتی ہے۔
اگر آپ جدّت کو بے لگام تصوّر کرتے ہیں تو کسی بھی قاعدے میں تصرّف کے مجاز ٹھہریں گے، جس کی اجازت آپ کو زبان خود ہی نہیں دیتی، اور آخر کار آپ کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
۲۵/۰۹/۲۰۲۴
سرشون ءُ کتابانک
رَمس: 2024-11-14 13:22:08